نگلورو،7/مئی(ایس او نیوز) سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کے متعلق وزیراعظم مودی کے نازیبا تبصرے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ بچپن میں جو گھر سے فرار ہوگیا اس سے ایسے ہی اخلاق کی توقع کی جاسکتی ہے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مودی اگر کچھ تعلیم یافتہ ہوتے تو انہیں اخلاق کا پاس ولحاظ ہوتا۔ بدقسمتی سے فرضی ڈگریاں وہ اپنی تعلیمی قابلیت کے لئے دکھاتے پھر رہے ہیں۔ اسی لئے ان سے یہ امید کرنا کہ وہ اخلاقی دائرے میں رہ کر بیان دیں گے مودی پر زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مودی کو چاہئے کہ پہلے پارلیمانی جمہوریت کے تحت بیان بازی کے تقاضوں کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں خاص طور پر مرحوم قائدین کا تذکرہ کرتے وقت اخلاق کا دائرہ کس قدر ہونا چاہئے مودی کو یہ معلوم کرلینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہاکہ بوفورس معاملے کو سپریم کورٹ نے 30 سال پہلے ہی خارج کردیا گیا ہے، لیکن عدالتوں کی پرواہ کئے بغیر کسی بھی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی نیچ فطرت مودی کا وطیرہ رہی ہے۔ ایسا شخص ملک کا وزیر اعظم بن گیا ہے ہندوستان کے لئے یہ سب سے بڑی بدبختی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 40 سیٹیں بھی نہ ملنے کے متعلق مودی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کھرگے نے کہاکہ ا ب بھی مودی اپنے آپ کو بے وقوفوں کی جنت میں دیکھتے ہیں۔ حقائق سے عاری ہوکر جھوٹ بولنے میں ماہر مودی کو چاہئے کہ عوام کی نبض کو پہچانیں۔ لوک سبھا انتخابات میں کھرگے کی شکست کے متعلق ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کھرگے نے کہاکہ یڈیورپا اب سیاست ترک کردیں اور کسی سڑک کے کنارے بیٹھ کر جوتشی کا دھندہ کھول لیں، انہیں کسی جوتشی پر یقین نہیں ہے بلکہ حلقے میں اپنے ترقیاتی کاموں پر پورا یقین ہے جس کے بل بوتے پر حلقے کے عوام انہیں کامیاب کریں گے۔